فساد کی وجہ اور بنیاد صرف اور صرف مغرب کی پیدا کردہ سائنس و ٹیکنالوجی
احمد فیروز
ساٹھ کی دہائی میں ایک بہت بڑے ملحد ہائی ڈیگر Questions Concerning with Technology کے مصنف سے سوال کرنے والے نے پوچھا کہ آپ کے خیال میں اس زمین کو اب سائنس و ٹیکنالوجی کی پھیلائی و مچائی ہوئی تباہی سے کون بچا سکتا ہے؟ تو اللہ تعالی کے اس منکر نے اس کا یہ جواب دیا تھا Only GOD Can save this Earth اس کرہ ارضی کو صرف اللہ ہی بچا سکتا ہے آج دنیا جس تباہی و بربادی سے دوچار ہے، کورونا وائرس کی صورت میں اس کا عملی تجربہ بھی کر رہی ہے اور خوف زدہ اتنی ہے کہ نہ اپنے بوڑھوں کے قریب جا رہی ہے نہ ہاتھ ملا رہی ہے نہ گلے مل رہی ہے اور نہ مسجدوں میں جا رہی ہے، صرف اس خوف سے کہ کہیں مر نہ جائے اور اس وقت دنیا کی ایک کثیر تعداد نفسیاتی مریض بن چکی ہے، اس سارے فساد کی وجہ اور بنیاد صرف اور صرف مغرب کی پیدا کردہ سائنس و ٹیکنالوجی ہے مغرب علمی طور پر اس نتیجے پر بھی پہنچ چکا ہے کہ اگر ہمیں اس دنیا کو بچانا ہے تو ہمیں ترقی کی رفتار کو بہت حد تک کم کرنا ہوگا نہیں تو اس دنیا کو جنت بنانے کے جو دعوے ہم کرتے رہے ہیں اور اس کا نتیجہ جہنم کی صورت اور شکل میں پوری دنیا کو ملے گا کیونکہ اس سائنس و ٹیکنالوجی کے ذریعے ظاہری طور آرام اور سکون، مزہ اور لطف ملتا تو ہے لیکن حقیقت میں اس کی پیدا کردہ تباہی و بربادی کا ہمیں اندازہ ہی نہیں ہوتا اور یہ تباہی قابل پیمائش بھی نہیں ہے، سو کوئی موجودہ ترقی کی رفتار کو کم ازکم دو فیصد کم کرنے کو کہہ رہا تو کوئی موجودہ جو رفتار ہے اس میں آدھی کم کرنے کو کہہ رہا ہے کورونا اس دنیا کو اس جیسے لاکھوں دیئے ہوئے تحائف میں سے ایک تحفہ ہے جو مغربی سائنس و ٹیکنالوجی نے حقیقت میں دئیے ہیں اور جس کی پیشین گوئی 1826 میں بھی کر دی گئی تھی مغربی سائنس و ٹیکنالوجی کے اس بد صورت تحفے کی وصولی کے باوجود اسے ہم ناقدانہ انداز میں دیکھنے کےلئے تیار نہیں ہیں اور افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہم ابھی تک مغربی سائنس کے پہنچائے ہوئے ظاہری آرام و سکون سے مرعوب و مغلوب ہو کر صرف اس کے قصیدے پڑھ رہے ہیں جس کا حقیقت میں نتیجہ صرف تباہی و بربادی ہے اور دنیا اس وقت اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے اسی لئے استاد محترم جناب سید خالد جامعی مدظلہ بار بار فرماتے ہیں کہ مغرب سے ہمارا مقابلہ ایمان اور عقیدے کی بنیاد پر ہے اور ہم اس میدان میں ہار رہے ہیں، اللہ ہم مسلمانوں کے حال پر رحم فرمائے (آمین)
تبصرے 0
تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں...
اپنا تبصرہ لکھیں