دیگر مضامین

دیگر مضامین کے تمام مضامین

1946   کے انتخابات اور جماعت اسلامی
1946 کے انتخابات اور جماعت اسلامی

کچھ دنوں سے اخبارات میں مولانامولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ صاحب کے اس مضمون کا تذکرہ ہورہا ہے، جو ایک سوال کے جواب میں سہ روزہ ’’کوثر‘‘ مورخہ 28؍ اکتوبر 1945ء کے صفحہ 3 پر شائع ہوا ہے۔ مولانا نے انتخابات کی شرکت اور رائے دہی کو حرام قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ: ’’ووٹ اور الیکشن کے معاملہ میں ہماری پوزیشن کو صاف صاف ذہن نشین کر لیجیے۔ پیش آمدہ انتخابات یا آئندہ آنے والے انتخابات کی اہمیت جو کچھ بھی ہو،اور ان کا جیسا کچھ بھی اثر ہماری قوم یا ملک پر پڑتا ہو،بہرحال ایک بااصول جماعت ہونے کی حیثیت سے ہمارے لیے یہ ناممکن ہے، کہ کسی وقتی مصلحت کی بنا پر، ہم ان اصولوں کی قربانی گوارا کر لیں جن پر ہم ایمان لائے ہیں۔

مکمل پڑھیں
پروفیسر خورشید احمد: کثیر الجہت شخصیت کی نمایاں خصوصیات
پروفیسر خورشید احمد: کثیر الجہت شخصیت کی نمایاں خصوصیات

پروفیسر خورشید احمد محض ایک فرد نہیں، ایک عہد، ایک تحریک، اور ایک دبستانِ فکر کا نام تھے۔ ان کی زندگی کثیر الجہت اور ہمہ جہت خوبیوں کا مظہر اور فکری و عملی جدوجہد سے عبارت تھی۔ ان کی شخصیت میں جو توازن، ڈسپلن، وسعتِ فکر و نظر، علمی جامعیت، مقصدیت، تحمل و شائستگی پائی جاتی تھی، وہ کم ہی لوگوں کو نصیب ہوتی ہے۔ پروفیسر صاحب کی پہچان صرف قومی سطح تک محدود نہ تھی۔ اسلامی معاشیات کے اولین معمار اس عظیم مفکر نے متعدد بین الاقوامی فورمز پر اسلام، پاکستان اور تحریکِ اسلامی کی نمائندگی کی۔ ان کی تحریریں اور لیکچرز اسلامی معیشت، سیاست اور معاشرت پر گہری بصیرت فراہم کرتے ہیں اور دنیا بھر کے علمی و تحقیقی حلقوں میں معتبر سمجھے جاتے ہیں

مکمل پڑھیں
قومی (National)، جمہوری (Democratic)، لادینی (Secular) اسٹیٹ :کیا مسلمان اس کو قبول کر سکتے ہیں؟
قومی (National)، جمہوری (Democratic)، لادینی (Secular) اسٹیٹ :کیا مسلمان اس کو قبول کر سکتے ہیں؟

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ (مندرجہ ذیل مضمون 1938 میں تحریر کیا گیا تھا۔ اس میں بھارت کی سب سے بڑی اقلیت، یعنی مسلمانانِ ہند، بخوبی دیکھ اور سمجھ سکتے ہیں کہ وہ موجودہ حالات تک کیسے اور کیوں پہنچے۔ دوسری جانب، وہ مہاجرین جو ہجرت کرکےپاکستان آگئے،اور جو آج بھی یہ سمجھتے ہیں کہ بھارت جیسے قومی، جمہوری اور سیکولر ملک سے ہجرت نہ کرنا ہی بہتر ہوتا، اور مولانا ابوالکلام آزاد کی بات درست تھی، وہ بھی اپنی غلط فہمیوں اور لاعلمی کو پہچان سکتے ہیں۔ اسی طرح دنیا بھر کی وہ اقلیتیں جو جمہوری نظام میں اکثریتی جبر کا شکار ہیں، وہ بھی ان اسباب و عوامل کو سمجھ سکتی ہیں۔ — جاوید انور)

مکمل پڑھیں
کتاب اللہ کی سند سے آزاد قانون سازی شرک ہے
کتاب اللہ کی سند سے آزاد قانون سازی شرک ہے

’’حاکمیت صرف اللہ کی ہے، اور قانون سازی کتاب الٰہی کی سند پر مبنی ہونی چاہئے۔ جب تک یہ اصول نہ مان لیا جائے ہم کسی انتخاب اور کسی رائے دہی کو حلال نہیں سمجھتے‘‘ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ جب سے ہم نے مضمون ’’ہمیں ووٹ نہیں دینا ہے‘‘ لکھا ہے، جمہور پرست خیموں میں ایک بھونچال سا آ گیا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے ہمارے اس اعلان اور مضمون سے مسلم جمہوری مفادات کا ہمالیہ ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہونے والا ہے۔ ٹھیک یہی کیفیت اُس وقت بھی پیدا ہوئی تھی، جب -1945-1946 کے انتخابات کے موقع پر مولانا مودودیؒ نے یہی اعلان کیا تھا کہ ہمیں ووٹ نہیں دینا ہے۔ ہر طرف سے سوالات اور اعتراضات کے تیر و تفنگ چل رہے تھے اور مسلم قوم کے مفادات کے تباہ ہونے کے خطرے کی دہائیاں دی جا رہی تھیں۔ یہ بھی سوال کیا گیا کہ کیا ہم بڑی برائی کے مقابلے میں چھوٹی برائی کو، یا بڑی بلا کے مقابلے میں چھوٹی بلا کو ووٹ  دے سکتے ہیں؟ مولانا مودودیؒ کا جواب درج ذیل ہے۔

مکمل پڑھیں
نظامِ کفر کی پارلیمان میں مسلمانوں کی شرکت کا مسئلہ
نظامِ کفر کی پارلیمان میں مسلمانوں کی شرکت کا مسئلہ

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ سوال:۔آپ کی کتاب ’’اسلام کا نظریۂ سیاسی‘‘ پڑھنے کے بعد یہ حقیقت تو دل نشین ہوگئی ہے، کہ قانون سازی کا حق صرف خدا ہی کے لیے مختص ہے، اور اس حقیقت کے مخالف اصولوں پر بنی ہوئی قانون ساز اسمبلیوں کا ممبر بننا عین شریعت کے خلاف ہے۔ مگر ایک شبہ باقی رہ جاتا ہے، کہ اگر تمام مسلمان اسمبلیوں کی شرکت کو حرام تسلیم کر لیں تو پھر سیاسی حیثیت سے مسلمان تباہ ہوجائیں گے۔ ظاہر ہے کہ سیاسی قوّت ہی سے قوموں کی فلاح وبہبود کا کام کیا جا سکتا ہے، اور ہم نے اگر سیاسی قوّت کو بالکلیہ غیروں کے حوالے ہوجانے دیا تو اس کا نتیجہ یہی ہوگا کہ اغیار مسلم دشمنی کی وجہ سے ایسے قوانین نافذ کریں گے، اور ایسا نظام مرتّب کریں گے جس کے نیچے مسلمان دب کر رہ جائیں گے، پھر آپ اس سیاسی تباہی سے بچنے کی کیا صورت مسلمانوں کے لیے تجویز کرتے ہیں؟‘‘

مکمل پڑھیں
مجلسِ قانون ساز (اسمبلی) کی رکنیت شرعی نقطۂ نگاہ سے
مجلسِ قانون ساز (اسمبلی) کی رکنیت شرعی نقطۂ نگاہ سے

سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ مندرجہ ذیل مضمون ترجمان القرآن محرم 1365 ہجری، دسمبر 1945 کے شمارے میں شائع ہوا، جو کتاب ’’تحریک آزادیٔ ہند اور مسلمان‘‘ جلد دوم (صفحہ 233، ایڈیشن 1983، اسلامی پبلیکیشنز، لاہور) میں شامل ہے۔ یہ واضح رہے کہ اُس وقت ہندوستان میں برطانوی راج تھا، اور اسی نوعیت کی لبرل ڈیموکریٹک اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لینے سے متعلق سوال کیا گیا تھا۔

مکمل پڑھیں
Default Image
وسعت اللہ خان کا کالم ’بات سے بات‘: عزت مآب سے ذلت مآب ہونے تک کا سفر

پہلے انھوں نے پورے براعظم پر ڈاکہ ڈالا، پھر افریقہ سے غلام اغوا کیے، پھر ان کی محنت چرا کے تجوریاں بھریں، پھر اس دولت سے کشید ہونے والی اندھی معاشی و عسکری طاقت کے بل پر ممالک خریدنے لگے

مکمل پڑھیں
Default Image
مسلم ممالک: جہاد یا جمہوریت ؟

محمد علی   افغانستان میں 15 اگست 2021ء کا دن اسلامی تاریخ کے ابواب میں ایک اہم سنہرے باب کے طور پر جانا جائے گا۔

مکمل پڑھیں
Default Image
لالہ ٔخونیں کفن ، فلسطین اُردو شاعری میں

پروفیسر محسن عثمانی ندوی

مکمل پڑھیں
Default Image
اگر محمد رسول اللہ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم اک دن تم سے ملنے آ جائیں

نیرنگ خیال_ایک فکری واردات!!

مکمل پڑھیں
Default Image
فساد کی وجہ اور بنیاد صرف اور صرف مغرب کی پیدا کردہ سائنس و ٹیکنالوجی

احمد فیروز

مکمل پڑھیں
Default Image
مغربی علمیت سے مرعوبیت کے خطرناک اثرات

زاہد صدیق مغل

مکمل پڑھیں
Default Image
مودی کی حماقت بھارت کو لے ڈوبے گی!

ڈاکٹر آصف شاہد

مکمل پڑھیں
Default Image
کشمیر جلد بنے گا ’’ بھارت کا افغانستان‘‘!

منیر اکرم جب جدید بھارت کی تاریخ لکھی جائے گی تو اس میں یہ ضرور شامل ہوگا کہ ہندو بھارت کے سامراجی مقاصد وادیٔ کشمیر میں خاکستر ہوگئے۔ افغانستان کو اگر ’سلطنتوں کا قبرستان‘ کہا جاتا ہے تو غلط نہیں۔ ۱۹ برس بیت گئے مگر امریکا اب بھی وہاں اپنی طویل ترین جنگ لڑنے میں مصروف ہے۔

مکمل پڑھیں
Default Image
اپنی زبان غیر

محمد طارق غازی

مکمل پڑھیں