علمائے پاکستان سے سوال (3)

یہ سلسلہ کا تیسرا، انتہائی شدید اور بے باک کالم ہے جس میں مصنف نے پاکستان پاپولیشن سمٹ 2025 کو کھلم کھلا پیدائش سے قبل بچوں کے قتلِ عام اور نسل کشی کا منصوبہ قرار دے کر اسے ریاستی، عالمی اور لبرل میڈیا کی مشترکہ سازش کہا ہے۔

جاوید انور

پاکستان کے سب سے بڑے لبرل میڈیا گروپ ڈان میڈیا کی طرف سے ریاستی سرپرستی میں’’پاکستان پاپولیشن سمٹ 2025‘‘ کرائی گئی۔ اس سمٹ کا انعقاد 1 سے 2 دسمبر کو اسلام آباد کے سرینا ہوٹل میں کیا گیا۔ اس سمٹ کا اصل مقصد پاکستان کی گھٹتی ہوئی آبادی—جس کی شرحِ نمو 2025 میں صرف 1.5% رہ گئی ہے—اسے مزید کم کرنے، بلکہ دوسرے لفظوں میں پیدائش سے قبل بچوں کے قتلِ عام کا منصوبہ ہے۔میں گزشتہ کالم میں لکھ چکا ہوں کہ آبادی کو برقرار رکھنے کے لیے کسی قوم کی شرحِ نمو کم از کم 2.1% ہونی چاہیے۔ اس سے کم یعنی آبادی گھٹانے کا انجام یہ ہے کہ نوجوان اور ضعیفوں کا تناسب خطرناک حد تک بڑھ جائے گا۔

ابھی تو بات یہ ہو رہی تھی کہ چین جہاں آبادی میں منفی شرحِ نمو کی وجہ سے نوجوانوں کی قلت کا سامنا ہے، پاکستان کے نوجوان اس قلت کو پورا کر سکتے ہیں۔ لیکن پاکستان کا کڑھ مغز مقتدرہ جو پلان بنا رہا ہے (آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے حکم کے مطابق) اس سے خود پاکستان کی معیشت اور معاشرت کا پہیہ چلانے کے لیے نوجوان ہاتھ کم ہو جائیں گے۔ بوڑھے لوگوں کے پاس اولڈ ایج ہومز کے علاوہ کوئی آپشن نہیں بچے گا۔سب سے پہلے ان چہروں اور ان لوگوں پر ایک نظر ڈالتے ہیں جو اس سمٹ میں شامل ہوئے:

• سب سے پہلے علماء جن کی شرکت انتہائی شرمناک ہے: مرکزی جمعیت علمائے اسلام کے چیئرمین مولانا محمد راغب حسین نعیمی، جامعہ دارالعلوم کے نائب صدر مفتی زبیر اشرف عثمانی (اس ادارے کے صدر مفتی تقی عثمانی ہیں)، رؤیت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مولانا سید محمد عبد الخبیر آزاد، اور ڈاکٹر راغب نعیمی۔

• برطانوی ہائی کمیشن کے سیم والڈاک، اور یو این ایف پی اے کے نمائندہ ڈاکٹر لؤی شبانه۔ ورلڈ بینک کی ملکہ ڈائریکٹر، ڈاکٹر بولورما امگابازر۔

• حکومتی اور سیاسی شخصیات: وفاقی وزیر منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال چوہدری (افتتاحی خطاب)، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، سینیٹر شری رحمان (پارلیمنٹری فورم آن پاپولیشن کی چیئرپرسن)، سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ (ویڈیو پیغام)، خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی (ویڈیو پیغام، واضح رہے کہ آبادی گھٹانے کے اس منصوبے میں تینوں بڑی سیاسی جماعتیں اور ان کی تین صوبائی حکومتیں سب ایک پیج پر ہیں)، پنجاب کی وزیر صحت و آبادی خواجہ عمران نذیر، سندھ کی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوحو (ویڈیو لنک)، وفاقی وزیر صحت ڈاکٹر ملک مختار احمد، سابق سینیٹر مشاہد حسین سید، سابق سینیٹر رضا ربانی، سابق کے پی وزیر تیمور سلیم جھگڑا، کراچی میئر مرتضیٰ وہاب، وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری (ویڈیو پیغام)، اور وزیراعظم کے ترجمان مشرف زیدی۔

• ماہرین اور تعلیمی شخصیات: ڈاکٹر زبیر ستھر (پاپولیشن کونسل کی ملکہ ڈائریکٹر)، ڈاکٹر اسحاق حسین (SDPI کے سینیئر ایڈوائزر)، پروفیسر مہتاب سلیم کریم (پاپولیشن ایسوسی ایشن آف پاکستان کے صدر)، ڈاکٹر راشد امجد (لاهور سکول آف ایکنامکس)، ڈاکٹر ایس اکبر زیدی (IBA کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر)، ڈاکٹر ہانیہ مختار (CDPR فیلو)، عارف حسن (آرکیٹیکٹ اور اربن پلانر)، ڈاکٹر قیبل ایاز (سپریم کورٹ کی شریعت اپیل بینچ کے رکن)، اور ڈاکٹر علی محمد میر (پاپولیشن کونسل کے سینیئر ڈائریکٹر)۔

• خواتین حقوق اور صحت کی سرگرم کارکن: عمہ لیلٰ اظہر (NCSW کی ہیڈ)، مدحہ لطیف (Pathfinder کی وائس پریذیڈنٹ)، شممہ الامبر ارباب (ویمن چیمبر آف کامرس کی سابق صدر)، ڈاکٹر یاسمین صبیح قاضی (QZ Catalyst کی CEO)، عائشہ لغاری (PSI کی ملکہ ڈائریکٹر)، طاہرہ عبد اللہ (حقوق کی سرگرم کارکن)، حمیرہ مسیح الدین (لیگل ایکسپرٹ)، مادیہ لطیف، سابق سفیر ملیحہ لودھی، ڈان کی CEO نذر فریں سیگل لکھانی۔

ان تمام بڑے بڑے انٹیلیکچوئلز کی ذہنی استعداد کتنی ہے، آپ اس سے اندازہ لگائیں کہ ان کا مقدمہ اور ان کی بحث اس بات پر ہے کہ ’’پاکستان کی آبادی 1947 میں 34 ملین تھی جو اب 257 ملین ہو گئی ہے، جو صحت، تعلیم، خوراک، پانی، روزگار اور شہری منصوبہ بندی پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔’’آپ پاکستانیوں کو یہ کیوں نہیں بتاتے کہ 1950 میں دنیا کی آبادی 2.5 بلین سے بھی تھوڑا کم تھی جو اب 2025 میں تقریباً 8.2 بلین ہو گئی ہے۔ اور تازہ ترین برسوں میں دنیا اور پاکستان دونوں کی شرحِ آبادی تیزی سے کم ہو رہی ہے (دنیا ~0.9-1.0%، پاکستان ~1.5-1.8%)۔ ماخذ: United Nations World Population Prospects 2024 Revision، Worldometer، اور Macrotrends (UN ڈیٹا پر مبنی)۔سمٹ کے شرکاء کو یہ کہہ دینا چاہیے تھا کہ دنیا میں ابا آدم اور امّاں حوّا آئی تھیں۔ دونوں مزے سے اس دنیا میں رہ رہے تھے، گھوم پھر رہے تھے، تمام وسائل ان دونوں کے پاس تھے۔ وہ خواہ مخواہ (نعوذ باللہ) آبادی بڑھانے میں لگ گئے۔

 سمّٹ  کے شرکاء کے اس مقدمے سے ہی یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ پاکستانی ریاست بدترین، بے صلاحیت، کند ذہن، ناکام، ناکارہ، ذہنی غلام، اور ان بدعنوان لوگوں کے ہاتھوں میں ہے جن کی ”بگاڑ“ کی صلاحیت ”بناو“ کی صلاحیت سے کہیں زیادہ ہے۔ اور جب ایسا ہوتا ہے تو دوسری اہل قوم—جن کی بناو کی صلاحیت بگاڑ سے زیادہ ہو—اس پر مسلط ہو کر رہتی ہے۔ پڑھیے سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کا کتابچہ ”بناو اور بگاڑ“۔

آج کی دنیا بھر میں ”صحت، تعلیم، خوراک، پانی، روزگار اور شہری منصوبہ بندی“ کا یہ عالم ہے وہ 1947 کے لوگوں نے خوابوں میں بھی کبھی نہیں سوچا ہوگا۔ ہر چیز کی افراط ہے۔ تاہم پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کے بدترین لوگ ان پر حکمرانی کر رہے ہیں۔ ان لوگوں کو تو آبادی گننے کی صلاحیت بھی موجود نہیں ہے۔ کراچی کے شہری ایک زمانے سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ ہمیں کاؤنٹ کر کے یہ تو بتا دو کہ ہم کتنے ہیں؟ لیکن آج تک یہ لوگ یہ بھی نہ بتا سکے کہ کراچی کی آبادی کتنی ہے۔ تو اصل مسئلہ پاکستان کے ان نااہل لوگوں کی پیدائش، اور ان کا اقتدار اور تمام وسائل پر قبضہ ہے۔

پاکستان کی آبادی جو آج 2025 میں تیزی سے نیچے آ رہی ہے، اسے اس سطح پر لانے میں پاکستان کی مرکزی اور صوبائی تمام حکومتوں نے بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان میں آبادی کنٹرول کے مرکزی اور صوبائی ادارے اور محکمے پاکستان میں آبادی کنٹرول (فیملی پلاننگ اور پاپولیشن ویلفیئر) کی ذمہ داری بنیادی طور پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے تحت نبھاتے ہیں۔ 18ویں آئینی ترمیم (2010) کے بعد یہ موضوع بنیادی طور پر صوبائی سطح پر منتقل ہو گیا، لیکن وفاقی سطح پر پالیسی، کوآرڈینیشن اور بین الاقوامی تعهدات (جیسے FP2030 اور UN SDGs) کی نگرانی ہوتی ہے۔ ان اداروں اور محکموں کے کام میں فیملی پلاننگ خدمات، آگاہی مہمات، کنٹریسپٹو دستیابیت، اس کے لیے مراکز کا قیام، ڈیٹا اکٹھا کرنا، اور پالیسی بنانا شامل ہے۔کنٹریسپٹو دستیابیت (Contraceptive Availability) میں شامل چیزیں پاکستان میں فیملی پلاننگ پروگراموں(جیسے Population Welfare Departments اور Lady Health Workers کے ذریعے) میں مختلف مانعِ حمل (contraceptive) طریقے اور آلات مفت یا کم قیمت پر دستیاب ہوتے ہیں۔ یہ حکومتی صحت مراکز، فیملی ویلفیئر سینٹرز، فارمیسیز، اور نجی کلینکس پر ملتے ہیں۔ دستیاب چیزیں درج ذیل ہیں اور حکومتی پروگراموں میں زیادہ تر بالکل مفت دستیاب ہیں:

عارضی (Temporary/Reversible) طریقوں میں سب سے زیادہ مردوں کے لیے کنڈوم (Condoms) تقسیم کیا جاتا ہے جو سب سے عام اور آسان ہے۔ اس کے بعد حمل روکنے کے لیے ہارمونل گولیاں ہیں جو عورتوں میں مفت تقسیم کی جاتی ہیں۔ عورتوں کے لیے DMPA یا Net-En؛ ہر 2-3 ماہ میں ایک انجیکشن لگایا جاتا ہے۔ یہ زیادہ تر حکومتی مراکز پر دستیاب ہیں۔ اگر ان سب (”حفاظتی“ تدابیر) کے بغیر مباشرت ہو جائے تو اس کے لیے ایمرجنسی گولیاں (Emergency Contraceptive Pills) دی جاتی ہیں جو 72-120 گھنٹوں کے اندر استعمال کرنے کے بعد حمل فوری ضائع ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ امپلانٹ (Implants) بازو میں چھوٹی راڈ (Implanon/Nexplanon) ہے جو 3-5 سال تک مؤثر ہوتی ہے۔ یہ ان کے بڑے مراکز میں مہیا کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ آئی یو ڈی (IUCD – Copper-T) رحم میں ڈالا جانے والا تانبے کا آلہ ہوتا ہے جو 5-10 سال تک مؤثر ہوتا ہے اور یہ زیادہ تر حکومتی کلینکس پر دستیاب ہے۔

اس کے علاوہ طویل مدتی یا مستقل  طریقے بھی مہیا کرائے جاتے ہیں۔ اس میں ایک، عورتوں کی نس بندی (Tubal Ligation) ہے یعنی سرجری سے خواتین کی نلیاں مستقل بند کر دینا۔ اس کے بعد ویسکٹومی (Vasectomy) ہے یعنی سرجری کے ذریعے مردوں کی نلیاں مستقل بند کرنا (نس بندی)۔ یہ ساری سروس سرکاری اسپتالوں میں دستیاب ہے۔ اس کے علاوہ ہارمونل آئی یو ڈی (LNG-IUS – Mirena) ہارمونل آئی یو ڈی؛ 5 سال تک ہے، یہ محدود ہے اور نجی کلینکس میں دستیاب ہے۔یہ تمام حکومتی اور نجی ادارے، اور میڈیا پر چلائے جانے والے اشتہارات UNFPA، WHO، اور آئی ایم ایف/ورلڈ بینک کی فنڈنگ سے کام کرتے ہیں۔

یہ بات واضح رہنی چاہئے کہ مانع حمل اور اسقاط حمل کی ہر تدبیر، ہر کوسش کے  خطرناک جسمانی  (بیماریاں)، ذہنی،  نفسیاتی، جذباتی اور روحانی  نتائج ہیں (اس حوالے سے بہت سی ریسرچ رپورٹس موجود ہیں)۔

انسان دشمن، آبادی گھٹاؤ مہم کے لیے مرکزی اور صوبائی سطح کے اداروں کی کیا پالیسی ہے اور وہ اس کا نفاذ کیسے کر رہے ہیں، اس کی روداد اگلے کالم میں، ان شاء اللہ۔

تبصرے 0

تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں...

تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں...

اپنا تبصرہ لکھیں
تمام تبصرے انتظامیہ کی منظوری کے بعد ظاہر ہوں گے۔
براہ کرم اپنا نام درج کریں (کم از کم 3 حروف)
براہ کرم اپنا تبصرہ درج کریں (کم از کم 10 حروف)
زیادہ سے زیادہ 1000 حروف