غامدی صاحب اور دیگر متجددین صرف عورت کے آزادی کے بارے میں اجتہادات کرتے ہیں کیوں؟

پروفیسر سید خالد جامعی

پروفیسر سید خالد جامعی

جدید اجتہاد یہ ہے کہ ’’قرن بیوتکن‘‘ صرف ازواج مطہرات کے لیے تھا جدید مسلمان عورت کے لیے یہ حکم منسوخ ہوچکا ہے۔غامدی صاحب کا موقف بھی یہی ہے تمام جدیدیت پسند مغرب کی اتباع میں اسی طرح سوچتے ہیں حیرت کی بات یہ ہے کہ جدیدیت پسند مسلم مفکرین اور چند راسخ العقیدہ مسلم مفکرین صرف عورت کے حقوق اور دائرہ کار کے بارے میں شریعت اسلامی کی از سر نو تفسیر اور توجیہہ تشریح نو کے داعی ہیں۔ لیکن ان میں سے کوئی ایک مفکر بھی مرد کے حقوق اور دائرہ کار کے بارے میں کسی اجتہاد نو یا تشریح نو کی ضرورت محسوس نہیں کرتا ان سب کی مشترکہ توجہ تحقیق گفتگو کا موضوع صرف اور صرف عورت ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن و سنت اور شریعت میں بہت بڑا نقص ہے یعنی شریعت کے وہ احکامات جو مردوں سے متعلق تھے وہ آج بھی کامل ہیں اور کسی تعبیر نو کے محتاج نہیں صرف اور صرف عورتوں سے متعلق احکامات شریعت ناقص تھے لہٰذا صرف اسی دائرے میں اجتہاد کی ضرورت محسوس ہورہی ہے اسی لیے اب متجددین شریعت کے اس حصے کو تحریف کے ذریعے تحریر کررہے ہیں۔اصل بات صرف یہ ہے کہ جدید مغرب نے آزادی مساوات ترقی کے فلسفے کے تحت تاریخ انسانی میں پہلی مرتبہ عورت اور مرد کے دائرہ کار، وظائف ،حدود کو ختم کردیا اور عورت کو مرد جیسا بنانے کا جبر تعلیم کے نام پر مسلط کرکے عورت کو مرد بنادیا۔ مغرب کی ترقی سے متاثر تمام متجددین نے جب دیکھا کہ مذہب عورت کو صرف عورت ہی رکھنا چاہتا ہے اور مغرب کی طرح عورت کو مرد بننے کے مواقع مہیا نہیں کرسکتا تو اجتہاد کے نام پر تحریف دین کا کام شروع ہوا اور اس کا دائرہ عموماً عورت کے کردار سے متعلق ہے لہٰذا مغرب کی اتباع میں عورت کو گھر سے نکالنے کے کام کی اسلام کاری کی گئی ورنہ اسلامی تاریخ کے کسی دور میں کسی مکتب فکر نے عورت کے دائرہ کار کے بارے میں کسی قسم کی کوئی اختلافی رائے نہیں دی عورت کے دائرہ کار پر دنیا کی ہر امت کا اجماع رہا ہے۔ جب سے مساوات کے فلسفے کے تحت عورت مرد کے کام کرنے لگی ہے مرد جیسی تعلیم حاصل کرکے مرد کے ساتھ صبح نکل کر ملازمت میں مصروف ہے اس کا گھر تباہ و برباد ہوگیا ہے لہٰذا اس کی تہذیب، اقدار، روایات بھی منہدم ہوگئی ہے اس بات کا اعتراف جاپان میں امریکہ کی خاتون سفیر کیرولین کینڈی کو ہے مگر جاوید غامدی صاحب اور

جدیدیت پسندوں کو نہیں ہے کینڈی کا نقطۂ نظر پڑھیے

 

U.S. Ambassador to Japan Caroline Kennedy addressed the issue at a news conference Thursday, saying: 147I think that this is going to take a sustained effort, and it's going to have to involve men, women, children, businesses, academia. And I think that this is certainly something that's in the long-term interest of Japan and the short-term interests of its families and workers.148
Describing herself as the first working mother to serve as U.S. ambassador in Tokyo, she acknowledged that gender equality remains an issue in America too: 147We have not solved this problem. It is still too difficult to balance work and family in the United States. But I think by sharing our experiences, we all can do better.148
Japan is falling far short of a goal to raise the share of government leadership positions held by women to 30 percent by April 2021, and is planning to reduce that target to just 7 percent for the central government, according to an Asahi report. A Cabinet Office survey released this month shows that women hold only 3.5percent of leadership posts, and the Asahi quoted an official as saying the office wanted to set a realistic goal.
Anecdotal evidence suggests that Japanese men do more housework than before, but it's still less than in some other developed countries.
A comparison by the Organization for Economic Cooperation and Development found that Japanese men spend less than 30 minutes a day on household chores, while American men do well over an hour. For Japanese women, it's more than three hours, versus about two hours for American women. [http://www.voanews.com/content/ap-court-ruling-latest-setback-for-japan-working-women/3106711.html]
عورت کو مرد جیسا بنا کر اسے عورت کے وظائف اور کاموں سے الگ کردینے کا جدید مغربی نسخہ کیا ہے؟ رالس لکھتا ہے:
China have imposed harsh restrictions on the size of families & have adopted other draconian measures but there is no need to be so harsh. Instructive here is the Indian state of Kerala, which in the late 1970s empowered women to vote & to participate in politics to receive & used education & to own & manage wealth & property. As a result, within several years Kerala's birth rate fell below china's without invoking the coercive powers of the state. China's birth rate in 1979 was 2.8 Kerala's 3.0. In 1991 these rates were 2.0 & 1.8 respectively. [John Rawls., The Law of People with the Idea of Public Reason Revisited, Harvard University Press, USA. 2003, p. 110
http://sahill.com.pk/ghamdi-30/

تبصرے 0

تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں...

تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں...

اپنا تبصرہ لکھیں
تمام تبصرے انتظامیہ کی منظوری کے بعد ظاہر ہوں گے۔
براہ کرم اپنا نام درج کریں (کم از کم 3 حروف)
براہ کرم اپنا تبصرہ درج کریں (کم از کم 10 حروف)
زیادہ سے زیادہ 1000 حروف