توہین رسالت پر غامدی صاحب کے متضاد خیالات قسط 4

پروفیسر سید خالد جامعی

پروفیسر سید خالد جامعی

توہین رسالت کے مسئلے پر غامدی صاحب کے متناقض Oxymoronخیالات
جناب غامدی صاحب کا تازہ جھوٹ : قرآن میں توہین رسالت کی سزا نہیں ہے
عاصمہ چودھری کو غامدی صاحب کا تازہ انٹرویو دیکھئے۔
قرآن میں توہین رسالت کی سزا موجود ہے [غامدی مقامات ۲۰۱۴ء ص ۲۸۱]
قرآن میں توہین رسالت کی زیادہ سے زیادہ سزا قتل ہے [غامدی مقامات ۲۰۱۴ء ص ۲۸۲
توہین پرقتل کی سزا اسے دی جائے گی جو سرکشی کے ساتھ توہین پر اصرار کرے [غامدی مقامات ۲۰۱۱ء ص ۲۸۲]
سورہ مائدہ کی آیت ۳۳،۳۴ توہین رسالت کے قانون کا ماخذ بن سکتی ہے [غامدی مقامات ۲۰۱۴ء ص ۲۷۲]
تاہم اتنی بات اس میں طے ہے قرآن کی رو سے موت کی سزا کسی شخص کو دو ہی صورتوں میں دی جاسکتی ہے وہ کسی کو قتل کردے یا ملک میں فساد برپا کردے اس کے سوا کسی جرم میں موت کی سزا نہیں دی جاسکتی [غامدی میزان ۲۰۱۵ ء ص ۶۰۹]
اللہ تعالیٰ نے پوری صراحت سے فرمایا ہے کہ قتل اور فساد فی الرض ان دو جرائم کو چھوڑ کر فرد ہو یا حکومت یہ حق کسی کو بھی حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی کو قتل کر ڈالے سورہ مائدہ میں آتا ہے مِنْ اَجْلِ ذٰلِکَ کَتَبْنَا عَلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآءِیْلَ اَنَّہٗ مَنْ قَتَلَ نَفْسًام بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا وَ مَنْ اَحْیَاھَا فَکَاَنَّمَآ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًا وَ لَقَدْ جَآءَ تْھُمْ رُسُلُنَا بِالْبَبیِّنٰتِ ثُمَّ اِنَّ کَثِیْرًا مِّنْھُمْ بَعْدَ ذٰلِکَ فِی الْاَرْضِ لَمُسْرِفُوْنَ [۵:۳۲] جس نے کسی کو قتل کیا اس کے بغیر کہ اس نے کسی کو قتل کیا ہو اور زمین میں فساد برپا کیا ہو تو اس نے گویا انسان کو قتل کردیا[غامدی میزان ۲۰۱۵ء ص ۶۰۹]
___________________________________
سوال یہ ہے کہ اگر قرآن کی رو سے کسی کو قتل اور فساد کے سوا کسی جرم میں قتل نہیں کیا جاسکتا تو توہین رسالت کی سزا قتل کیسے ہوسکتی ہے ۔غامدی صاحب کے دونوں اصول Oxymoron ہیں۔
___________________________________
جرائم کی سزا کا حکم مسلمانوں کو ان کی انفرادی حیثیت میں نہیں دیا گیا غامدی[ میزان ۲۰۱۵ ء ص ۶۰۹]
حدود و تعزیرات کا حکم مسلمان معاشرے اور نظم اجتماعی کو دیا گیا ہے [غامدی میزان ۲۰۱۵ء ص ۶۰۹]
قرآن کی رو سے کسی شخص کو سزا صرف اور صرف ریاست نظم اجتماعی دے سکتا ہے [غامدی میزان ص ۶۰۹]
جرائم کا حکم ہی قرآن کی ان سورتوں میں بیان ہوا ہے جو اس وقت نازل ہوئیں جب مدینہ میں باقاعدہ حکومت قائم ہوگئی [غامدی میزان ۲۰۱۵ء ص ۶۰۹]
کسی کے قتل کا بدلہ لینا قصاص ایک قرض ہے جو صرف مسلمانوں کی حکومت لے سکتی ہے [غامدی میزان ۲۰۱۵ء ص ۶۱۷]
کوئی بھی مسلمان حکومت کے بغیر قصاص میں ملزم کو خوددقتل کرسکتا ہے [غامدی میزان ۲۰۱۵ء ص ۶۱۸]
جب مسلمانوں کی حکومت قائم نہیں ہوئی تھی تو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں خود حکم دیا کہ حکومت کے بغیر ریاست کے بغیر قصاص کے ملزم کو قتل کیاجاسکتا ہے [غامدی میزان ۲۰۱۵ء ص ۶۱۸]
کفر پر مسلمان حکمران کے خلاف خروج جہاد کرکے اسے قتل کیا جاسکتا ہے [غامدی برہان ۲۰۱۳ء ص ۲۹۸ ،۲۹۹]
مسلمان حکمران کے خلاف خروج سے پہلے ہجرت ضروری ہے ہجرت کے بعد جہاد (خروج) کیا جاسکتا ہے [غامدی برہان ۲۰۱۳ء ص ۳۰۱]
______________________
غامدی صاحب حضرت حسینؓ کے بارے میں فرماتے ہیں سوال یہ ہے کہ مسلمان حکمران کے خلاف ایک آدمی (حضرت حسینؓ) بغاوت کرکے آگیا ہے اب وہ سرنڈر کررہا ہے مگر اس میں بنو امیہ کی حکومت کا سرے سے کوئی مسئلہ ہی نہیں تھا حضرت حسینؓ کے قافلے کے لوگوں نے ان پر حملہ کردیا تھا جسے بچاتے بچاتے یہ حادثہ ہوگیا [افضال ریحان اسلامی تہذیب بمقابلہ مغربی تہذیب حریف یا حلیف انٹرویو جاوید غامدی لاہور دارالتذکیر ستمبر ۲۰۰۴ء ص ۴۵]
سرزمین عرب میں غیر اللہ کی عبادت کے لیے کسی دوسرے مذہب کا معبد تعمیر نہیں کیا جاسکتا [غامدی مقامات ۲۰۱۴ء ص ۱۹۶]
سرزمین عرب میں کسی کافر مشرک کو قیامت تک رہنے بسنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی [غامدی مقامات ۲۰۱۴ء ص ۱۹۶]
اس کا مطلب یہ ہوا کہ سرزمین عرب میں جو کافر و مشرک ہو اسے وہاں سے بے دخل کردیا جائے گا [غامدی مقامات ۲۰۱۴ء ص ۱۹۶]
سرزمین عرب کے بارے میں یہ قرآن کا حکم خاص ہے اس حکم کا دنیا کے کسی دوسرے علاقے سے کوئی تعلق نہیں ہے [غامدی مقامات ۲۰۱۴ء ص ۱۹۶]
قیامت تک کسی فرد کو حق نہیں کہ وہ کسی شخص کو کافر قرار دے یہ حق صرف رسول کو حاصل تھا لہٰذا داعی کسی کی تکفیر نہیں کرسکتا [غامدی میزان ۲۰۱۳ء ص ۲۱۹]
مقامات میں فرمایا کہ سرزمین عرب میں قیامت تک کافر مشرک نہیں رہ سکتے اب فرماتے ہیں کہ کسی کو کافر مشرک نہیں کہا جاسکتا تو سرزمین عرب سے کافر مشرک کو کیسے نکالاجائے گا۔
خالد جامعی (قسط اوّل)
_________________
جاوید غامدی صاحب نے توہین رسالت کے مسئلے پر عاصمہ چوہدری کو انٹرویو دیتے ہوئے حسب معمول اپنے اُلٹے سیدھے خیالات پیش کیے ہیں ان خیالات کا تحقیقی تنقیدی جائزہ ہم تفصیل سے لیں گے فی الحال ہم کسی انسان کے قتل کے سلسلے میں ان کے متناقض Oxymoron خیالات پیش کررہے ہیں جس سے اندازہ ہوگا کہ جناب غامدی صاحب کو کچھ نہیں معلوم کہ وہ کیا کیا کچھ کہتے رہتے ہیں ۔
(۱) عاصمہ چوہدری کو انٹرویو میں کہتے ہیں کہ اسلام میں قرآن میں خدمت میں توہین رسالت کی کوئی سزا نہیں ہے۔
(۲) مقامات ۲۰۱۴ء میں لکھتے ہیں کہ توہین رسالت کی سزا سورہ مائدہ کی آیت محاربہ میں موجود ہے اس کی زیادہ سے زیادہ سزا قتل ہے ۔
(۳) جب قرآن میں توہین رسالت کی سزا نہیں ہے تو یہ سزا قتل کیسے ہوگئی۔
(۴) میزان میں لکھتے ہیں کہ توہین رسالت حدود میں شامل نہیں ہے اور قتل کی سزا قرآن کی رو سے صرف اور صرف قصاص اور فساد فی لارض میں دی جاسکتی ہے اس کے سوا کسی جرم میں قتل کی سزا نہیں دی جاسکتی۔
لہٰذا غامدی صاحب پہلے یہ بتائیں کہ ان کا کون سا اصول درست ہے کیا توہین رسالت کی سزا قتل ہے یا قتل نہیں ہے _____ جب وہ یہ جواب دے دیں گے تو بات آگے بڑھے گی واضح رہے کہ غامدی صاحب عربی زبان سے ناواقف ہیں ایسے کم زور محقق کا اسلام پر نقطۂ نظر سننا خود جہالت ہے غامدی صاحب کی کتاب مقامات ۲۰۰۶ء میں ان کی غلط سلط عربی پڑھی جاسکتی ہے غامدی صاحب کے علمی تضادات کے سلسلے میں آپ عمار ناصر صاحب سے ہمارے مکالمے کی ۵۲ قسطیں ملاحظہ کیجئے جس سے اندازہ ہوگا کہ غامدی صاحب نہ اسلام کو جانتے ہیں نہ مغرب کو نہ عربی نہ فلسفہ ۔

تبصرے 0

تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں...

تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں...

اپنا تبصرہ لکھیں
تمام تبصرے انتظامیہ کی منظوری کے بعد ظاہر ہوں گے۔
براہ کرم اپنا نام درج کریں (کم از کم 3 حروف)
براہ کرم اپنا تبصرہ درج کریں (کم از کم 10 حروف)
زیادہ سے زیادہ 1000 حروف