تازہ ترین خبریں اور تجزیے

معیاری صحافت اور درست معلومات کا اولین مقام

امریکا مت آئیو
امریکا مت آئیو

امریکا، وہ خوابوں کی سرزمین، جہاں لاکھوں دل ہر سال اپنی امیدوں کے پر جلاتے ہیں، اب ایک تاریک موڑ پر کھڑا ہے۔ یہ وہی سرزمین ہے جہاں برصغیر کے تارکین وطن نے اپنی محنت کے موتی بکھیرے، اپنی صلاحیتوں سے اس کی گلیوں کو سجایا، اور اپنے خوابوں کی قیمت اپنے وطن کی جدائی سے چُکائی۔ مگر امریکی سپریم کورٹ کے تازہ فیصلے نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس ایگزیکٹو آرڈر کو جزوی طور پر بحال کر دیا جو پیدائشی شہریت کے حق کو چھینتا ہے۔ یہ فیصلہ برصغیر کے تارکین وطن کے لیے ایک زوردار طمانچہ ہے۔ وہ امریکا، جو کبھی "ترقی کا خدا" کہلاتا تھا، اب اپنے چاہنے والوں کے لیے مایوسی کا ایک کڑوا پیغام لے کر آیا ہے۔

مکمل پڑھیں
ایران کی قائدانہ صلاحیت اور امتِ مسلم
ایران کی قائدانہ صلاحیت اور امتِ مسلم

دیکھیے، یہ ’’امت‘‘ کی آواز کہاں سے بلند ہو رہی ہے؟ ذرا کان لگائیے۔ خلافت کے خاتمے کے بعد مسلم امت قومی ریاستوں میں تقسیم ہوگئی تھی، اور اس کی پکار دب گئی تھی۔ کسی قومی رہنما یا فوجی سربراہ نے امتِ مسلمہ کو کبھی متحدہ طور پر مخاطب نہیں کیا۔ یہ اصطلاح صرف علما اور عوام تک محدود رہی۔ قومی لیڈروں نے اپنے وطن کی جغرافیائی حدود سے باہر کے مسلمانوں یا مظلوموں کی بات نہیں کی، اور اگر کی بھی تو صرف زبانی جمع خرچ۔ صرف خلافت کے دور میں ہی ’’امت‘‘ کا عملی تصور موجود تھا، جب خلیفہ وقت تمام مسلمانوں کا نمائندہ سمجھا جاتا تھا۔ اب مسلم امت کی دبی ہوئی آواز پھر سے بلند ہو رہی ہے۔

مکمل پڑھیں
ایران کی طاقت
ایران کی طاقت

نئی عالمی جنگ القدس کے گرد گھوم رہی ہے، جسے بعض تیسری یا آخری عالمی جنگ کی ابتدا بھی کہتے ہیں۔ فلسطین کی آزادی کی یہ جنگ اسلام اور شہادت کے جذبے سے سرشار انتفاضہ اور فلسطینی نوجوانوں کے غلیل سے شروع ہوئی۔ ان نوجوانوں کو حماس جیسی تنظیم مل گئی، جس نے غزہ پر اپنی گرفت مضبوط کی۔ سیکولر اور لبرل فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (PLO) کمزور پڑ گئی ،لیکن حماس جہاد، فتح، عزت، اور ہمت کا استعارہ بن گئی۔

مکمل پڑھیں
اسلامی انقلاب کیسے؟  سید مودودؒی کا اصل موقف: اُن کی تحریروں اور واقعاتی شواہد کی روشنی میں
اسلامی انقلاب کیسے؟  سید مودودؒی کا اصل موقف: اُن کی تحریروں اور واقعاتی شواہد کی روشنی میں

کیا پاکستان میں پہلے عام انتخابات کے تجربے کے بعد سید مودودیؒ اس نتیجے پر پہنچ گئے تھے کہ انتخابی سیاست اوربالغ رائے دہندگی کے ذریعے ملک میں صالح قیادت کا برسراقتدار آنا ممکن نہیں لہٰذا جماعت اسلامی کو  دعوت عام کے ذریعے معاشرے کو جڑ سے ٹھیک کرنے والے انبیائے کرام کے اس طریق کار کی جانب لوٹ جانا چاہیے جو روز اول سے جماعت کے پیش نظر تھا ؟ کیا انہوں نے جماعت کو اس راستے پر واپس لانے کی خاطر کوئی عملی کوشش بھی کی تھی لیکن بوجوہ اس میں کامیاب نہیں ہو سکے ؟ اس تحریر میں حقائق کی روشنی میں اسی سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ کم از کم مستقبل کا مورخ اور  اسلامی تحریکیں درست نتائج تک پہنچ سکیں۔         

مکمل پڑھیں
ایران پر یلغار کیوں؟
ایران پر یلغار کیوں؟

برطانیہ کے سابق وزیراعظم بورس جانسن نے 6 اپریل 2024 کو ڈیلی میل کے لیے لکھے گئے ایک مضمون میں کہا تھا کہ اگر یوکرین روس کے خلاف جنگ ہار جاتا ہے تو یہ "مغرب کے غلبے کا خاتمہ" ہوگا، جو مغربی تہذیب کے لیے ایک تباہ کن نتیجہ ہوگا۔ انہوں نے یوکرین کی جنگ اور اس کی کامیابی کو مغربی تہذیب اور جمہوریت کے لیے اہم لمحہ قرار دیا۔ انہوں نے پورے یورپ کو یوکرین کے پیچھے کھڑے ہونے کی اپیل کی تھی۔ اس کے علاوہ، انہوں نے متعدد مواقع پر یوکرین کی جنگ کو مغربی اقدار، جمہوریت، اور نئے عالمی نظم (New World Order) کے تناظر میں اہم قرار دیا۔ اسرائیل بھی مغرب کی نظر میں مشرق وسطیٰ میں صہیونیت اور مغربیت کے غلبے کی جنگ لڑ رہا ہے۔

مکمل پڑھیں
1946   کے انتخابات اور جماعت اسلامی
1946 کے انتخابات اور جماعت اسلامی

کچھ دنوں سے اخبارات میں مولانامولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ صاحب کے اس مضمون کا تذکرہ ہورہا ہے، جو ایک سوال کے جواب میں سہ روزہ ’’کوثر‘‘ مورخہ 28؍ اکتوبر 1945ء کے صفحہ 3 پر شائع ہوا ہے۔ مولانا نے انتخابات کی شرکت اور رائے دہی کو حرام قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ: ’’ووٹ اور الیکشن کے معاملہ میں ہماری پوزیشن کو صاف صاف ذہن نشین کر لیجیے۔ پیش آمدہ انتخابات یا آئندہ آنے والے انتخابات کی اہمیت جو کچھ بھی ہو،اور ان کا جیسا کچھ بھی اثر ہماری قوم یا ملک پر پڑتا ہو،بہرحال ایک بااصول جماعت ہونے کی حیثیت سے ہمارے لیے یہ ناممکن ہے، کہ کسی وقتی مصلحت کی بنا پر، ہم ان اصولوں کی قربانی گوارا کر لیں جن پر ہم ایمان لائے ہیں۔

مکمل پڑھیں
کشمیر! جَڑ کی بات کریں
کشمیر! جَڑ کی بات کریں

اسرائیل اگر مغرب کی ناجائز اولاد ہے، تو کشمیر برطانیہ کی ناجائز وراثت کی بدترین تقسیم کا نتیجہ ہے۔ کشمیر برطانوی بے ایمانی کا شاہکار ہے، جو برصغیر کے مسلمانوں کے ساتھ کیے گئے فراڈ کا ایک انمول نمونہ ہے۔ برطانیہ نے ہندوستان کو مسلمانوں سے چھین کر اپنی نوآبادیاتی حکومت قائم کی تھی۔ اس نے برصغیر کی ایک عظیم مسلم سلطنت کو اپنی کالونی بنایا اور پھر مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے۔ انہیں تعلیمی، معاشی، اور تہذیبی ہر لحاظ سے برباد کیا

مکمل پڑھیں
پروفیسر خورشید احمد: کثیر الجہت شخصیت کی نمایاں خصوصیات
پروفیسر خورشید احمد: کثیر الجہت شخصیت کی نمایاں خصوصیات

پروفیسر خورشید احمد محض ایک فرد نہیں، ایک عہد، ایک تحریک، اور ایک دبستانِ فکر کا نام تھے۔ ان کی زندگی کثیر الجہت اور ہمہ جہت خوبیوں کا مظہر اور فکری و عملی جدوجہد سے عبارت تھی۔ ان کی شخصیت میں جو توازن، ڈسپلن، وسعتِ فکر و نظر، علمی جامعیت، مقصدیت، تحمل و شائستگی پائی جاتی تھی، وہ کم ہی لوگوں کو نصیب ہوتی ہے۔ پروفیسر صاحب کی پہچان صرف قومی سطح تک محدود نہ تھی۔ اسلامی معاشیات کے اولین معمار اس عظیم مفکر نے متعدد بین الاقوامی فورمز پر اسلام، پاکستان اور تحریکِ اسلامی کی نمائندگی کی۔ ان کی تحریریں اور لیکچرز اسلامی معیشت، سیاست اور معاشرت پر گہری بصیرت فراہم کرتے ہیں اور دنیا بھر کے علمی و تحقیقی حلقوں میں معتبر سمجھے جاتے ہیں

مکمل پڑھیں
اسرائیل، بھارت، پاکستان، فلسطین اور کشمیر
اسرائیل، بھارت، پاکستان، فلسطین اور کشمیر

پاکستان پر بھارت کی حالیہ جارحیت درحقیقت اسرائیلی حملے کی ایک توسیع ہے۔ اس کی تازہ ترین وجہ پاکستانی عوام کی طرف سے ریاست سے فلسطین اور القدس کے لیے جہاد کے مطالبے میں شدت ہے۔ یہ مطالبہ پاکستان کے جید علمائے کرام کے متفقہ فتویٰ پر مبنی تھا، جس نے عوامی جذبے کو مزید تقویت دی۔ اسرائیل اس وقت دنیا کی ہر اُس طاقت کو کچل دینا چاہتا ہے جو حال یا مستقبل میں اس کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ اسرائیل اور پاکستان کی دشمنی نئی نہیں بلکہ نظریاتی بنیادوں پر قائم ہے۔ 23 مارچ 1940 کو لاہور میں مسلم لیگ کے تاریخی اجلاس میں قراردادِ پاکستان کے ساتھ ساتھ فلسطین کے حق میں بھی ایک قرارداد منظور کی گئی

مکمل پڑھیں
قومی (National)، جمہوری (Democratic)، لادینی (Secular) اسٹیٹ :کیا مسلمان اس کو قبول کر سکتے ہیں؟
قومی (National)، جمہوری (Democratic)، لادینی (Secular) اسٹیٹ :کیا مسلمان اس کو قبول کر سکتے ہیں؟

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ (مندرجہ ذیل مضمون 1938 میں تحریر کیا گیا تھا۔ اس میں بھارت کی سب سے بڑی اقلیت، یعنی مسلمانانِ ہند، بخوبی دیکھ اور سمجھ سکتے ہیں کہ وہ موجودہ حالات تک کیسے اور کیوں پہنچے۔ دوسری جانب، وہ مہاجرین جو ہجرت کرکےپاکستان آگئے،اور جو آج بھی یہ سمجھتے ہیں کہ بھارت جیسے قومی، جمہوری اور سیکولر ملک سے ہجرت نہ کرنا ہی بہتر ہوتا، اور مولانا ابوالکلام آزاد کی بات درست تھی، وہ بھی اپنی غلط فہمیوں اور لاعلمی کو پہچان سکتے ہیں۔ اسی طرح دنیا بھر کی وہ اقلیتیں جو جمہوری نظام میں اکثریتی جبر کا شکار ہیں، وہ بھی ان اسباب و عوامل کو سمجھ سکتی ہیں۔ — جاوید انور)

مکمل پڑھیں
کتاب اللہ کی سند سے آزاد قانون سازی شرک ہے
کتاب اللہ کی سند سے آزاد قانون سازی شرک ہے

’’حاکمیت صرف اللہ کی ہے، اور قانون سازی کتاب الٰہی کی سند پر مبنی ہونی چاہئے۔ جب تک یہ اصول نہ مان لیا جائے ہم کسی انتخاب اور کسی رائے دہی کو حلال نہیں سمجھتے‘‘ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ جب سے ہم نے مضمون ’’ہمیں ووٹ نہیں دینا ہے‘‘ لکھا ہے، جمہور پرست خیموں میں ایک بھونچال سا آ گیا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے ہمارے اس اعلان اور مضمون سے مسلم جمہوری مفادات کا ہمالیہ ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہونے والا ہے۔ ٹھیک یہی کیفیت اُس وقت بھی پیدا ہوئی تھی، جب -1945-1946 کے انتخابات کے موقع پر مولانا مودودیؒ نے یہی اعلان کیا تھا کہ ہمیں ووٹ نہیں دینا ہے۔ ہر طرف سے سوالات اور اعتراضات کے تیر و تفنگ چل رہے تھے اور مسلم قوم کے مفادات کے تباہ ہونے کے خطرے کی دہائیاں دی جا رہی تھیں۔ یہ بھی سوال کیا گیا کہ کیا ہم بڑی برائی کے مقابلے میں چھوٹی برائی کو، یا بڑی بلا کے مقابلے میں چھوٹی بلا کو ووٹ  دے سکتے ہیں؟ مولانا مودودیؒ کا جواب درج ذیل ہے۔

مکمل پڑھیں
نظامِ کفر کی پارلیمان میں مسلمانوں کی شرکت کا مسئلہ
نظامِ کفر کی پارلیمان میں مسلمانوں کی شرکت کا مسئلہ

مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ سوال:۔آپ کی کتاب ’’اسلام کا نظریۂ سیاسی‘‘ پڑھنے کے بعد یہ حقیقت تو دل نشین ہوگئی ہے، کہ قانون سازی کا حق صرف خدا ہی کے لیے مختص ہے، اور اس حقیقت کے مخالف اصولوں پر بنی ہوئی قانون ساز اسمبلیوں کا ممبر بننا عین شریعت کے خلاف ہے۔ مگر ایک شبہ باقی رہ جاتا ہے، کہ اگر تمام مسلمان اسمبلیوں کی شرکت کو حرام تسلیم کر لیں تو پھر سیاسی حیثیت سے مسلمان تباہ ہوجائیں گے۔ ظاہر ہے کہ سیاسی قوّت ہی سے قوموں کی فلاح وبہبود کا کام کیا جا سکتا ہے، اور ہم نے اگر سیاسی قوّت کو بالکلیہ غیروں کے حوالے ہوجانے دیا تو اس کا نتیجہ یہی ہوگا کہ اغیار مسلم دشمنی کی وجہ سے ایسے قوانین نافذ کریں گے، اور ایسا نظام مرتّب کریں گے جس کے نیچے مسلمان دب کر رہ جائیں گے، پھر آپ اس سیاسی تباہی سے بچنے کی کیا صورت مسلمانوں کے لیے تجویز کرتے ہیں؟‘‘

مکمل پڑھیں
مجلسِ قانون ساز (اسمبلی) کی رکنیت شرعی نقطۂ نگاہ سے
مجلسِ قانون ساز (اسمبلی) کی رکنیت شرعی نقطۂ نگاہ سے

سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ مندرجہ ذیل مضمون ترجمان القرآن محرم 1365 ہجری، دسمبر 1945 کے شمارے میں شائع ہوا، جو کتاب ’’تحریک آزادیٔ ہند اور مسلمان‘‘ جلد دوم (صفحہ 233، ایڈیشن 1983، اسلامی پبلیکیشنز، لاہور) میں شامل ہے۔ یہ واضح رہے کہ اُس وقت ہندوستان میں برطانوی راج تھا، اور اسی نوعیت کی لبرل ڈیموکریٹک اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لینے سے متعلق سوال کیا گیا تھا۔

مکمل پڑھیں
ہمیں ووٹ نہیں دینا ہے
ہمیں ووٹ نہیں دینا ہے

اللہ ہمیں معاف کرے۔ ہم غلطی پر تھے۔ ہماری عقل پر پردہ پڑ گیا تھا، ہم نسیان میں مبتلا ہوگئے تھے کہ اب تک ہم جاہلی سیاست کے کسی نہ کسی طور سے معاون و مددگار بنے رہے۔ ہماری مسلم اور اسلامی برادری نے اسلامی سیاست کو چھوڑ کر جاہلی سیاست کی دلدادہ بن کر اپنا مقام کھو دیا ہے۔ ہمیں یہ کیا ہو گیا کہ اسلام کے مکمل نظام حیات، رہنمائی، اور زندگی گزارنے کے طریقوں کے باوجود ہم نے سیاست اور تمدن کو دوسروں کے حوالے کر دیا؟ ہم طاغوت کے پیروکار بن گئے اور اسی کے دست و بازو بن کر رہ گئے۔

مکمل پڑھیں
دو شہریت
دو شہریت

اس دنیا کی آبادی اس وقت تقریباً آٹھ بلین ہے۔ اس میں 195 ممالک ہیں، اور ان ممالک میں سب ملا کر ایک ہزار سے پندرہ سو تک صوبے اور ریاستیں ہیں۔ تقریباً پانچ ہزار سے زیادہ منفرد نسلی گروہ ہیں، جہاں لگ بھگ سات ہزار زبانیں بولی جاتی ہیں۔لیکن، درحقیقت پوری دنیا میں رہنے والوں کی شہریت کی صرف دو اقسام ہیں۔ اور ہم سب کو ان دو شہریتوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ یہ ہماری مجبوری بھی ہے اور ضرورت بھی۔ ایک شہریت ہے دنیا کی، اور دوسری شہریت ہے جنت کی۔جن کے پاس دنیا کی شہریت ہے، ان کے لیے جنت نہیں ہے۔

مکمل پڑھیں