معیاری صحافت اور درست معلومات کا اولین مقام
کوئی ریاست خواہ وہ سیکولر ہو یا مذہبی… مادی ترقی کو اپنا اور معاشرے کا اصل ہدف بنائے اور اس معاشرے میں آویزش اور تصادم پیدا نہ ہو، یہ ممکن ہی نہیں۔ نوائے وقت کے ایڈیٹر اور معروف دانشور جناب مجید نظامی مرحوم نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ ہم نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا تھا کہ ہم یہ ملک اسلام کے نام پر حاصل کررہے ہیں اور ہم یہاں اسلام نافذ کریں گے، لیکن ہم نے وعدہ خلافی کی، اور اب ہمیں وعدہ خلافی کی سزا مل رہی ہے۔ جنرل ضیا اور کسی حد تک نوازشریف کو بھی سزا ملی۔ انھوں نے اسلامی ریاست کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو اسلامی ریاست بنانا یہی ہے کہ اسے فلاحی مملکت بنائیں، غریب کے بچے کو تعلیم دیں، لوگوں کو مکان دیں اور عام آدمی کو علاج معالجے کی سہولتیں دیں۔
مکمل پڑھیں
جاوید انور میرا مکان ایسا ہوا جس کا ایک تنکا بھی حرام کا نہ ہو۔ میرا مکان ایسا ہوجس میں سود کا دھواں تک نہ پہنچے۔ میرا مکان ایسا ہوجس میں کسی کا قرض نہ ہو۔ میرا مکان ایسا ہوجہاں کوئی ناگوار بات سنائی نہ دے۔ میرا مکان ایسا ہوجس میں غیبت نہ ہو، بہتان نہ ہو، کسی پر کوئی الزام نہ ہو۔ میرا مکان ایسا ہو جس میں ازواج ہم آہنگ ہوں، کامل اطاعت ہو
مکمل پڑھیں
جاوید احمد غامدی اس حد تک مغرب سے مرعوب ہیں کہ وہ مسلمانوں کو بھی مغرب کے رنگ میں رنگے دیکھنا چاہتے ہیں۔ مغرب نے خدا اور مذہب کا انکار کیا ہے۔ غامدی صاحب مسلمانوں سے خدا اور مذہب کے انکار کے لیے تو نہیں کہتے مگر وہ یہ ضرور کہتے ہیں کہ ہمیں ترقی یافتہ مغرب کی تقلید کرنی چاہیے۔ خورشید ندیم غامدی صاحب کے شاگرد رشید ہیں چنانچہ وہ بھی اپنے کالموں میں مغرب زدگی کا مظاہرہ کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے اپنے ایک حالیہ کالم میں فرمایا ہے کہ چین بدل گیا، جاپان بدل گیا مگر مسلمان اب تک خلافت کے احیا کے تصور میں پھنسے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اپنے کالم میں بنیادی سوال یہ اُٹھایا ہے کہ مسلم فکری دھارا باقی دنیا کے فکری دھارے سے مختلف کیوں ہے۔ انہوں نے اپنے کالم میں کیا لکھا ہے۔ انہی کے الفاظ میں ملاحظہ فرمائیے۔ لکھتے ہیں۔
مکمل پڑھیں
مسلمانوں کے لیے دنیا اور آخرت کا باہمی تعلق یہ ہے کہ دنیا دار الامتحان ہے اور آخرت دارالجزا۔ دنیا عمل کے لیے ہے اور آخرت عمل کی جزا کے لیے۔ چنانچہ اصل کامیابی دنیا کی نہیں آخرت کی ہے۔ کروڑوں انسان ہوں گے جو دنیا میں کامیاب ہوں گے مگر آخرت میں ان کا شمار ناکام ترین لوگوں میں ہوگا۔ کروڑوں انسان ہوں گے جو دنیا میں بظاہر ناکام ہوں گے مگر آخرت میں کامیاب ہوں گے۔ لیکن بدقسمتی سے مسلمانوں میں دنیا پرستی عام ہے چنانچہ جسے دیکھیے دنیا کی کامیابی کے ہیضے میں مبتلا ہے۔ معروف کالم نویس اور دانش ور خورشید ندیم چونکہ غامدیانہ فکر کے ترجمان ہیں اس لیے دنیاوی کامیابی کا ہیضہ ان کو زیادہ گرفت میں لیے ہوئے ہے لیکن خورشید ندیم کا مسئلہ صرف دنیاوی کامیابی کے ہیضے کا نہیں۔ وہ مغرب اور اس کے اتحادیوں کے غلبے سے مرعوب ہیں اور انہیں اسلامی تحریکوں کا کیا اسلام کا مستقبل بھی مخدوش نظر آتا ہے۔
مکمل پڑھیں
جاوید انور شورائیت اسلامی نظام ِاجتماعیت اور سیاست ہے، جمہوریت مغربی نظامِ اجتماعیت اور سیاست ہے۔ شورائیت میں اہل الرائے کی رائے لی جاتی ہے، جمہوریت میں بالغ رائے دہندگی ہے۔ شورائیت میں بندوں کوتولا کرتے ہیں جمہوریت میں بندوں کو گنا کرتے ہیں۔ شورائیت میں جمہورعلماء کی رائے کی اہمیت ہے جمہوریت میں عالم او جاہل سب برابر ہیں۔ شورائیت میں موسیٰؑ اور ہارونؑ کی رائے کی اہمیت ہے، جمہوریت میں سامری کے پیروکاروں کی ۔ شورائیت پر اللہ کا سایہ ہوتا ہے، جمہوریت پر شیطان کا۔
مکمل پڑھیں
خیر وہ ہےجو انسان اور کائنات کے خالق و مالک نے ہمیں بتا دیا ہے۔ شر وہ ہے جسے انسان نے شیطان کی مدد سے اپنی خواہشات نفس کے مطابق ایجاد کیا ہے۔ کائنات کا اصول ِواحد اصولِ خیر ہے۔ شر کا کوئی اصول نہیں ہے۔ خیر ہدایت ہے اورشرضلالت۔ خیر کی طاقت کو متحدد ہونا چاہیے، اور شر کی قوت کو منتشر۔ خیر کی نمائندہ انسانی جماعت میں جب کمزوری آتی ہے، تبھی شر کی قوت پنپتی ہے۔ خیر کا نظام حیات نظام واحد ہے۔ شر کا نظام حیات نظام متفرق ہے۔ خیر ابدی ہے اور شرعارضی، خیر دائمی ہے اور شربے ثباتی۔
مکمل پڑھیں
جاوید انور بچوں کو ان کی ماوُں کی گود اور باپ کے آغوش سے چھین کو فاحش ہم جنس جوڑوں کو دینے کا پروگرام بن چکا ہے۔ پہلے بچوں کو آہستہ آہستہ جینڈرکے حوالے سے کنفیوژ کیا جائے گا، اور اس کے بعد جنسی طور پر مُنحَرِف کیا جائے گا۔ اور جب پھل تیار ہوگا تو ان کے والدین بن جائیں گے فاحش گروپ اور تنظیمیں۔ اور یہ بات ان کے والدین کو بہت بعد میں پتہ چلے گا۔ آخرکار انھیں فاحش سوسائٹی کے حوالے کر دیا جائے گا۔ میں آواز لگا رہا ہوں، مستقل اَذان دے رہا ہوں، آپ کو بتا رہا ہوں، سمجھا رہا ہوں۔آپ ان پر کان دھریں۔
مکمل پڑھیں
جاوید انور کینیڈا کا تعلیمی نظام تاریخ انسانی کا بدترین نظا م تعلیم بن چکا ہے۔ اور اس میں ذرا بھی مبالغہ نہیں ہے۔ کینیڈا میں فاحِش کمیونٹی کے بہت سے اپنے فاحش لائف اسٹائل والے سیاسی لیڈرز ہیں اور رہے ہیں۔ ایک بڑا نام اونٹاریو لبرل کی کیتھلین وِن کا ہے۔ گو کہ اب وہ سیاست سےاپنی انتہائی نااہلی کے باعث فارغ ہو چکی ہیں ،ان کو اور ان کے حمایتی بنیاد کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے۔ کیونکہ کینیڈا کے تمام فاحش قوانین کی ابتداء انھیں سے ہوتی ہے۔
مکمل پڑھیں
جاوید انور میری آپ سے گزارش یہ ہے کہ کینیڈا اور امریکا کی فاحش تہذیب اور کلچر کو اگر خوب اچھی طرح سمجھنا ہے اور اس سے اپنے آپ کو اور اپنے بچوں کو اور اپنی آئندہ نسلوں کو بچانا ہے تو ہمارے ان کالموں کوغور سے پڑھیں۔ 2012 میں، اونٹاریو لیجسلیٹو اسمبلی میں شیری ڈینوو، جو این ڈی پی کی ایم پی پی تھیں، کی طرف سے ایک بل پیش کیا گیا۔ یہ بل 33 کے نام سے جانا گیا، جو اُسی سال ایکٹ بن گیا اور اس کا نام رکھا گیا:"ٹوبی ایکٹ (صنفی شناخت یا صنفی اظہار کی بنا پر امتیاز اور ہراسانی سے آزاد ہونے کا حق)، 2012"
مکمل پڑھیں
کینیڈا اور دنیا بھر میں پھیل رہی موجودہ فاحِشَہ تحریک صرف عمل قوم لوط نہیں ہے بلکہ یہ ایک نیا جنسی نظریہ اور صنفی عقیدہ لے کر آئی ہے۔اس کا عقیدہ یہ ہے کہ بچہ پیدائش میں کوئی جنس لے کر نہیں آتا ہے، بلکہ جنس وہ ہے جسے وہ خود بتائے کہ وہ کیا ہے۔20 جولائی 2005 کو کینیڈا میں ہم جنسیت کی شادی کا وفاقی قانون بن گیا۔ لیکن اس سے قبل ہی دس صوبوں میں سے آٹھ صوبوں میں اور تین میں سےایک یونین کے زیر انتظام یونٹ میں ہم جنسیت کی شادی کا قانون بن چکا تھا۔۔ اونٹاریو، بریٹش کولمبیا ، کویبیک ، مینیٹوبہ، نووا اسکوشا ،سیسکیچیون ، نیو برنسوِک ، نیو فاونڈ لینڈ اینڈ لیبراڈوراور یونین زیرانتظام یوکون میں عدالت کے ذریعہ اس طرح کے بیاہ کو قانونی قرار دیا جا چکا تھا۔
مکمل پڑھیں
جاوید انور میرے گزشتہ کالم میں آپ نے پڑھا کہ کس طرح ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح طور پرکہ دیا کہ امریکا کی ریاستی پالیسی میں صرف دو جنس ہوں گے، مرد اور عورت ۔ تیسرے کس صنف کی کوئی گنجائش نیست۔ ہمیں یہاں کینیڈا میں بھی ایک ایسی لیڈرشپ چاہیے جو یہی اسٹیٹ پالیسی لے کر آئے۔ اب اس سے کم پر بات نہیں ہوسکتی اور نہ چل سکتی ہے۔ جب خدا کا عطا کردہ دوجنس کا اصول مان لیا جائے گا اورریاستی پالیسی بن جائے گی تو خود بخود سارےجنسی اور صنفی قوانین بدلیں گے اور اپنی اصل حالت میں آجائیں گے۔
مکمل پڑھیں
اگر پاکستان میں آج بھی ریفرنڈم کرا لیا جائے کہ آپ اسلام اور لبرلزم میں کس کا انتخاب کریں گے تو 98 فی صد لوگ اسلام کے حق میں ہی ووٹ دیں گے۔ لیکن برطانوی طرز کی انتخابی سیاست میں ان اسلامی جماعتوں کو جو دین اسلام کو ریاست کا دین، اور شریعت اسلامی کو عدالتی شریعت بنانا چاہتے ہیں وہ ووٹ حاصل نہیں کر پاتیں۔ اس کی وجہ کیا ہے؟
مکمل پڑھیں
پاکستان میں الیکشن کے نام پر آٹھ فروری کو کیا ہونے جا رہا ہے، اور پاکستان کے ووٹرز کو کیا کرنا چاہئے،اس پر میرا تبصرہ ہے کہ نہ ساتھ دیں گی یہ دم توڑتی ہوئی شمعیں نئے چراغ جلاؤ کہ روشنی کم ہے
مکمل پڑھیں
جاوید انور ہم سے چند نسل قبل کے لوگ عشق کم کیا کرتے تھے، لیکن جب کرتے تھے تو اسے نبھا دیتے تھے۔ میر تقی میر کے والد علی متقی اپنے بیٹے سے کہا کرتے تھے کہ بیٹا عشق کیا کر، عشق کے بغیر زندگی نامکمل اور ناقص اور بے لذت ہے۔ زندگی کام کی بنتی نہیں بے سوز جگر شمع بننے کی تمنا ہو تو پروانہ بنے
مکمل پڑھیں
پہلے انھوں نے پورے براعظم پر ڈاکہ ڈالا، پھر افریقہ سے غلام اغوا کیے، پھر ان کی محنت چرا کے تجوریاں بھریں، پھر اس دولت سے کشید ہونے والی اندھی معاشی و عسکری طاقت کے بل پر ممالک خریدنے لگے
مکمل پڑھیں